حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ أَيُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ‏؟‏ قَالَ‏: ”تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بہترین اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ، اور ہر جان پہچان والے اور اجنبی کو سلام کہو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1050
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : صحيح البخاري ، الإيمان ، حديث : 12»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سلام کے لیے ضروری نہیں کہ انسان دوسرے سے واقف ہو بلکہ ہر مسلمان کو سلام کہنا ضروری ہے۔ مزید تفصیل گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1050 سے ماخوذ ہے۔