الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ مَنْ كَرِهَ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ باب: مخصوص لوگوں کو سلام کہنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ جُلُوسًا، فَجَاءَ آذِنُهُ فَقَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، فَرَأَى النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ، وَمَشَيْنَا وَفَعَلْنَا مِثْلَ مَا فَعَلَ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُسْرِعٌ فَقَالَ: عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا رَجَعَ، فَوَلَجَ عَلَى أَهْلِهِ، وَجَلَسْنَا فِي مَكَانِنَا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَخْرُجَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ؟ قَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوُّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ، وَقَطْعُ الأَرْحَامِ، وَفُشُوُّ الْقَلَمِ، وَظُهُورُ الشَّهَادَةِ بِالزُّورِ، وَكِتْمَانُ شَهَادَةِ الْحَقِّ.“طارق بن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اطلاع دینے والے نے آ کر کہا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا مسجد کے اگلے حصے میں لوگ رکوع میں تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے اور ہم بھی آگے بڑھے اور ایسے ہی کیا۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) ایک شخص جلدی سے گزرا اور کہا: «السلام علیکم» اے ابو عبدالرحمٰن۔ انہوں نے فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے صحیح صحیح پہنچا دیا۔ پھر ہم نماز سے فارغ ہو کر واپس آگئے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اپنے گھر چلے گئے۔ ہم اپنی جگہ بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ وہ باہر آجائیں۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ کون ان سے سوال کرے گا (کہ انہوں نے سلام کا جواب دینے کے بجائے یہ کیوں کہا کہ اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا)، طارق نے کہا: میں سوال کروں گا، چنانچہ انہوں نے سوال کیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے قریب سلام خاص لوگوں کو کہا جائے گا، تجارت عام ہو جائے گی حتی کہ بیوی تجارت کے معاملات میں خاوند کی معاونت کرے گی، قطع رحمی کی جائے گی، علم پھیل جائے گا، جھوٹی گواہی عام ہوگی، اور سچی گواہی کو چھپایا جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(۱)جب ایک سے زیادہ لوگ کسی جگہ پر موجود ہوں تو ایک آدمی کو خصوصی طور پر سلام کہنا اور باقی لوگوں کو نظر انداز کر دینا درست نہیں۔ تاہم عام سلام کے بعد کسی خاص کو سلام کہنا جائز ہے۔ مخصوص سلام کرنے والے کو بطور تنبیہ جواب نہ دینا جائز ہے۔
(۲) حدیث میں مذکور دیگر قیامت کی نشانیاں بھی پوری ہو چکی ہیں۔ قطع رحمی عام ہے اور خواتین تجارت میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی تگ و دو کر رہی ہیں۔ اور علم کتابوں اور کمپیوٹر کی صورت میں مشرق و مغرب میں پھیل چکا ہے۔