الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ تَسْلِيمِ النِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ باب: عورتوں کا مردوں کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: كُنَّ النِّسَاءُ يُسَلِّمْنَ عَلَى الرِّجَالِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: عورتیں مردوں کو سلام کہا کرتی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ام ہانی رضی اللہ عنہا کا واقعہ فتح مکہ کا ہے۔ آپ غسل فرما رہے جبکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چادر کے ساتھ پردہ کیے ہوئے تھیں۔
(۲) گھر آنے والے کو خوش آمدید یا اس طرح کے دیگر عزت و تکریم کے کلمات کہنا مستحب ہے۔
(۳) عورتیں غیر محرم مردوں کو سلام کہہ سکتی ہیں بشرطیکہ کسی فتنے کا ڈر نہ ہو، خصوصا بزرگوں کو سلام کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں سلام سے گریز کرنا چاہیے۔
(۱)ام ہانی رضی اللہ عنہا کا واقعہ فتح مکہ کا ہے۔ آپ غسل فرما رہے جبکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چادر کے ساتھ پردہ کیے ہوئے تھیں۔
(۲) گھر آنے والے کو خوش آمدید یا اس طرح کے دیگر عزت و تکریم کے کلمات کہنا مستحب ہے۔
(۳) عورتیں غیر محرم مردوں کو سلام کہہ سکتی ہیں بشرطیکہ کسی فتنے کا ڈر نہ ہو، خصوصا بزرگوں کو سلام کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں سلام سے گریز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1046 سے ماخوذ ہے۔