حدیث نمبر: 1044
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَنْبَسَةَ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُسَلِّمُ عَلَى الصِّبْيَانِ فِي الْكُتَّابِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عنبسہ بن عمار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ مکتب میں بچوں کو سلام کہتے تھے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1044
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : تفرد به المصنف»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
عام قاعدہ یہی ہے کہ چھوٹے بڑوں کو سلام کہیں لیکن بچوں کی تعلیم و تربیت اور سلام کو عام کرنے کے لیے بچوں کو سلام میں پہل کرنا سنت نبوی ہے، نیز اس میں تواضع اور عجز و انکساری بھی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1044 سے ماخوذ ہے۔