حدیث نمبر: 1042
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَبْخَلُ النَّاسِ الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلاَمِ، وَإِنَّ أَعْجَزَ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ بِالدُّعَاءِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام میں بخل کرے، اور سب سے عاجز اور بے بس وہ ہے جو دعا کرنے سے بھی عاجز ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)یہ روایت موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح ثابت ہے۔ (الصحیحة، ح:۶۰۱)
(۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجز اور کسل مندی سے پناہ طلب کی ہے اور سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ انسان سے دعا کی توفیق ہی چھن جائے اور اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی ضرورتیں رکھنے کا موقعہ بھی نہ ملے۔
(۱)یہ روایت موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح ثابت ہے۔ (الصحیحة، ح:۶۰۱)
(۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجز اور کسل مندی سے پناہ طلب کی ہے اور سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ انسان سے دعا کی توفیق ہی چھن جائے اور اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی ضرورتیں رکھنے کا موقعہ بھی نہ ملے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1042 سے ماخوذ ہے۔