حدیث نمبر: 1040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ‏:‏ التَّسْلِيمُ تَطَوَّعٌ، وَالرَّدُّ فَرِيضَةٌ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سلام کہنا نفل اور جواب دینا فرض ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1040
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : الجامع الصغير للسيوطي ، حديث : 4848»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ حسن بصری رحمہ اللہ کی رائے ہے ورنہ تمام دلائل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام کہنا اور اس کا جواب مسلمانوں کے حقوق میں سے ہے اور ان حقوق کو ادا کرنے کا شارع علیہ السلام نے حکم دیا ہے۔ یوں سلام اور جواب دونوں ہی ضروری ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1040 سے ماخوذ ہے۔