حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ عُبَيْدٍ، بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرٍ، قَالَ‏:‏ دَخَلْنَا عَلَى رُوَيْفِعٍ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى أَنْطَابُلُسَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ، فَقَالَ لَهُ رُوَيْفِعٌ‏:‏ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْنَا لَرَدَدْنَا عَلَيْكَ السَّلاَمَ، وَلَكِنْ إِنَّمَا سَلَّمْتَ عَلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ، وَكَانَ مَسْلَمَةُ عَلَى مِصْرَ، اذْهَبْ إِلَيْهِ فَلْيَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلاَمَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

زیاد بن عبید حمیری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا رویفع بن سکن انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ انطابلس کے امیر تھے، ہم وہاں موجود تھے کہ ایک آدمی آیا اور سلام کہتے ہوئے یہ الفاظ بولے: «السلام عليك أيها الأمير»! تو سیدنا رویفع رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر تم ہمیں سلام کہتے تو ہم تیرے سلام کا جواب دیتے، لیکن تم نے تو مسلمہ بن مخلد پر سلام کیا ہے (سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر کے گورنر تھے)۔ ان کے پاس جاؤ وہی تیرے سلام کا جواب دیں گے۔ زیاد کہتے ہیں کہ جب وہ کسی مجلس میں ہوتے اور ہم آ کر سلام کرتے تو یوں کہتے: «السلام علیکم»۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوفًا
تخریج حدیث «ضعيف الإسناد موقوفًا : تفرد به المصنف»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس میں زیاد بن عبید راوی مجہول ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1027 سے ماخوذ ہے۔