حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ: إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ مَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالإِمْرَةِ بِالْكُوفَةِ، خَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ بَابِ الرَّحَبَةِ، فَفَجَأَهُ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، زَعَمُوا أَنَّهُ: أَبُو قُرَّةَ الْكِنْدِيُّ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَكَرِهَهُ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، هَلْ أَنَا إِلاَّ مِنْهُمْ، أَمْ لاَ؟ قَالَ سِمَاكٌ: ثُمَّ أَقَرَّ بِهَا بَعْدُ.تمیم بن حذلم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے کس کو امیر کے لقب سے سلام کہا گیا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رحبہ کے دروازے سے نکلے تو ایک شخص کندہ سے آیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ابو قرہ کندی تھا۔ اس نے سلام کہا اور یہ الفاظ بولے: «السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله، السلام علیکم»! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ انداز ناپسند کیا اور فرمایا: «السلام عليكم أيها الأمير، السلام علیکم»! (یہ کیا انداز ہوا) کیا میں ان لوگوں میں شامل ہوں کے نہیں (پھر مجھے الگ سلام کی کیا ضرورت؟) سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں: بعد ازاں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو مان لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ مجھے الگ سے واحد کے صیغے کے ساتھ سلام کہنا اور لوگوں کو الگ سلام کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ السلام علیکم میں سب آجاتے ہیں وہی کافي تھا۔ بعدازاں شاید انہیں اس انداز کے جواز پر انشراح ہوگیا تو انہوں نے اس انداز سے سلام کہنے کی اجازت دے دی۔