حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ فَمَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حجاج کے پاس آیا تو میں نے اسے سلام نہیں کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حجاج بن یوسف ظالم اور کئی صحابہ کا قاتل تھا اس وجہ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کہنا گوارا نہ کیا کیونکہ نافرمانوں کو سلام نہیں کہنا چاہیے خواہ وہ امیر ہو یا کوئی عام آدمی۔
حجاج بن یوسف ظالم اور کئی صحابہ کا قاتل تھا اس وجہ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کہنا گوارا نہ کیا کیونکہ نافرمانوں کو سلام نہیں کہنا چاہیے خواہ وہ امیر ہو یا کوئی عام آدمی۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1025 سے ماخوذ ہے۔