حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا حَجَّتَهُ الأُولَى وَهُوَ خَلِيفَةٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَأَنْكَرَهَا أَهْلُ الشَّامِ وَقَالُوا‏:‏ مَنْ هَذَا الْمُنَافِقُ الَّذِي يُقَصِّرُ بِتَحِيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ‏؟‏ فَبَرَكَ عُثْمَانُ عَلَى رُكْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ‏:‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ هَؤُلاَءِ أَنْكَرُوا عَلَيَّ أَمْرًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ حَيَّيْتُ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَمَا أَنْكَرَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِمَنْ تَكَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ‏:‏ عَلَى رِسْلِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ بَعْضُ مَا يَقُولُ، وَلَكِنَّ أَهْلَ الشَّامِ قَدْ حَدَثَتْ هَذِهِ الْفِتَنُ، قَالُوا‏:‏ لاَ تُقَصَّرُ عِنْدَنَا تَحِيَّةُ خَلِيفَتِنَا، فَإِنِّي إِخَالُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ تَقُولُونَ لِعَامِلِ الصَّدَقَةِ‏:‏ أَيُّهَا الأمِيرُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے بعد پہلا حج کرنے کے لیے آئے تو سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ان سے ملنے آئے، تو انہوں نے کہا: «السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله». ابلِ شام کو یہ انداز برا لگا اور انہوں نے کہا: یہ منافق کون ہے جو امیر المومنین کے سلام میں نقص پیدا کرتا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، پھر فرمایا: امیر المومنین! یہ لوگ مجھ سے ایسی بات پر ناراض ہو رہے جسے آپ ان سے زیادہ جانتے ہیں۔ اللہ کی قسم میں نے سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کو اسی طرح سلام کہا تو کسی نے ان میں سے اسے ناپسند نہیں کیا۔ اہلِ شام میں سے جس نے یہ بات کی تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ انہوں نے وہی بات کی ہے جو وہ کہتے تھے۔ لیکن شام والوں کو جب یہ فتنہ پیش آیا تو کہنے لگے کہ ہمارے پاس ہمارے خلیفہ کے سلام میں کوتاہی نہ کی جائے۔ اے اہلِ مدینہ! میرا خیال ہے کہ تم صدقہ وصول کرنے والے عامل کو أیها الأمير کہتے ہو (اس لیے انہوں نے برا محسوس کیا ہے۔)

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1024
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : المصنف لعبدالرزاق : 390/15 ، ح : 19454»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سلام کا جو انداز جس شخص کے لیے معروف ہو، وہی اختیار کرنا چاہیے بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1024 سے ماخوذ ہے۔