حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو رُزَيْقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَكْرَهُ الأَسْبِرَنْجَ وَيَقُولُ‏:‏ لَا تُسَلِّمُوا عَلَى مَنْ لَعِبَ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْمَيْسِرِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

علی بن عبداللہ بن عباس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ شطرنج کو ناپسند کرتے تھے، اور کہتے تھے: جو آدمی شطرنج کے ساتھ کھیلے اس کو سلام نہ کہو۔ یہ جوا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1019
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع
تخریج حدیث «ضعيف الإسناد مقطوع : تفرد به المصنف»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس کی سند ضعیف اور منقطع ہے۔ اس کی سند میں ابو رزیق راوی مجہول ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1019 سے ماخوذ ہے۔