الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ مَنْ دَهَنَ يَدَهُ لِلْمُصَافَحَةِ باب: مصافحے کے لیے ہاتھ کو خوشبو لگانا
حدیث نمبر: 1012
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ، عَنْ قُرَيْشٍ الْبَصْرِيِّ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ أَنَسًا كَانَ إِذَا أَصْبَحَ ادَّهَنَ يَدَهُ بِدُهْنٍ طَيِّبٍ لِمُصَافَحَةِ إِخْوَانِهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ثابت بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے بھائیوں سے مصافحہ کرنے کے لیے روزانہ صبح اپنے ہاتھوں کو خوشبودار تیل لگاتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سلام کی مکمل صورت مصافحہ ہے جس سے مصافحہ کرنے والوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ سید انس رضی اللہ عنہ اس میں مزید بہتری پیدا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو خوشب لگاتے تاکہ مسلمان بھائی کو خوشی ہو۔
سلام کی مکمل صورت مصافحہ ہے جس سے مصافحہ کرنے والوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ سید انس رضی اللہ عنہ اس میں مزید بہتری پیدا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو خوشب لگاتے تاکہ مسلمان بھائی کو خوشی ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1012 سے ماخوذ ہے۔