الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ حَقِّ مَنْ سَلَّمَ إِذَا قَامَ باب: مجلس سے اٹھتے وقت سلام کہنے کا ثواب
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ أَبُو الْحَسَنِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَكُونُونَ مُجْتَمِعِينَ فَتَسْتَقْبِلُهُمُ الشَّجَرَةُ، فَتَنْطَلِقُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عَنْ يَمِينِهَا وَطَائِفَةٌ عَنْ شِمَالِهَا، فَإِذَا الْتَقَوْا سَلَّمَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اکٹھے ہوتے، پھر ان کے سامنے درخت آجاتا اور کچھ لوگ اس سے دائیں ہو جاتے اور کچھ بائیں ہو جاتے، پھر جب دوبارہ ملتے تو ایک دوسرے کو سلام کہتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سلام کہنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان دور سے آئے تب سلام کہے بلکہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جائیں تو بھی سلام کہنا چاہیے۔ ایک دوسرے سے الگ ہوکر دوبارہ اکٹھے ہوں خواہ چند لمحے بعد ہو تو بھی سلام کہنا چاہیے۔
سلام کہنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان دور سے آئے تب سلام کہے بلکہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جائیں تو بھی سلام کہنا چاہیے۔ ایک دوسرے سے الگ ہوکر دوبارہ اکٹھے ہوں خواہ چند لمحے بعد ہو تو بھی سلام کہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1011 سے ماخوذ ہے۔