حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ‏:‏ مَنْ لَقِيَ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ حَائِطٌ، ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کو ملے، اسے چاہیے کہ اسے سلام کہے۔ اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار حائل ہو جائے اور پھر دوبارہ ملے تو بھی اسے سلام کہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السلام / حدیث: 1010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوفًا و صح مرفوعًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا و صح مرفوعًا : سنن أبى داؤد ، الأدب ، حديث : 5200»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح صحیح ہے۔ اس سے سلام کی اہمیت اور اسے عام کرنے کا انداز ہوتا ہے کہ یہ کس قدر اہم ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1010 سے ماخوذ ہے۔