الادب المفرد
كتاب السلام— كتاب السلام
بَابُ التَّسْلِيمِ إِذَا جَاءَ الْمَجْلِسَ باب: جب کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ رَجَعَ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنَّ الأُخْرَى لَيْسَتْ بِأَحَقَّ مِنَ الأولَى“. ¤ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے، اور جب اٹھ کر جائے تو بھی سلام کہے۔ بلا شبہ دوسرا پہلے سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے۔“
ایک دوسرے طریق سے بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی مجلس میں خاموشی سے آکر بیٹھ جانا مجلس میں بیٹھے افراد کی حق تلفي ہے، نیز اہل مجلس کے لیے پریشانی کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔
کسی مجلس میں خاموشی سے آکر بیٹھ جانا مجلس میں بیٹھے افراد کی حق تلفي ہے، نیز اہل مجلس کے لیے پریشانی کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1007 سے ماخوذ ہے۔