حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: إِذَا سَلَّمْتَ فَأَسْمِعْ، فَإِنَّهَا تَحِيَّةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَارَكَةً طَيْبَةً.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ثابت بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں آیا جس میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب سلام کرو تو دوسروں کو سناؤ، یعنی بآواز بلند سلام کرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سلام کہنے والے کو چاہیے کہ اپنی آواز اس قدر بلند رکھے کہ جسے سلام کہا جارہا ہے وہ سن لے اور اگر زیادہ افراد ہیں تو اس کے مطابق آواز بلند کرے تاکہ وہ بھی اس کے لیے سلامتی کی دعا کرسکیں۔ البتہ اگر کسی جگہ کچھ لوگ آرام کر رہے ہوں اور کچھ جاگ رہے ہوں تو اس انداز سے سلام کہنا چاہیے کہ جاگنے والے سن لیں اور سوئے ہوؤں کی نیند خراب نہ ہو۔
سلام کہنے والے کو چاہیے کہ اپنی آواز اس قدر بلند رکھے کہ جسے سلام کہا جارہا ہے وہ سن لے اور اگر زیادہ افراد ہیں تو اس کے مطابق آواز بلند کرے تاکہ وہ بھی اس کے لیے سلامتی کی دعا کرسکیں۔ البتہ اگر کسی جگہ کچھ لوگ آرام کر رہے ہوں اور کچھ جاگ رہے ہوں تو اس انداز سے سلام کہنا چاہیے کہ جاگنے والے سن لیں اور سوئے ہوؤں کی نیند خراب نہ ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1005 سے ماخوذ ہے۔