کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: گانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4922
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ : " جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي الْغَدِ ، فَقَالَ : دَعِي هَذِهِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس صبح آئے ، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) بیٹھے ہو ، پھر ( انصار کی ) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا : اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5147)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المغازي 12 (4001)، سنن الترمذی/النکاح 6 (1090)، سنن ابن ماجہ/النکاح 21 (1897)، (تحفة الأشراف: 15832)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359، 360) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4923
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ لَقُدُومِهِ فَرَحًا بِذَلِكَ لَعِبُوا بِحِرَابِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5962)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 477)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/161) (صحیح الإسناد) »