حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ ؟ , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ الْحَالِقَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے ، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا : ” آپس میں میل جول کرا دینا ، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے “ ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمْ يَكْذِبْ مَنْ نَمَى بَيْنَ اثْنَيْنِ لِيُصْلِحَ " , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُسَدَّدٌ : لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام حمید بن عبدالرحمٰن ( ام کلثوم ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی ۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے ، وہ جھوٹا نہیں ہے : ” جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی “ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً یوں کہے کہ آپ کو تو فلاں نے سلام کہا ہے یا فلاں آپ سے محبت رکھتا ہے یا فلاں آپ کی تعریف کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِي ، أَنَّ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ ،عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ ، قَالَتْ : " مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا أَعُدُّهُ كَاذِبًا : الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ , يَقُولُ الْقَوْلَ وَلَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا ، سوائے تین باتوں کے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا ، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے ، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو ، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے ، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے ۔