سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں دعا مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 883
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 ، قَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " . قَالَ أَبُو دَاوُد : خُولِفَ وَكِيعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَرَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى» کہتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں دعا مانگنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 883]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 883]
883۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز اور غیر نماز میں آیات کا جواب ثابت ہے، ان میں سے ایک مقام یہ بھی ہے۔
➋ یہ حدیث صرف قاری یعنی قراءت اور تلاوت قرآن کرنے والے کے لیے ہے، اس سے مقتدی یا سامع کا جواب دینا بہرحال ثابت نہیں ہوتا، اس لیے مقتدی اور سامع کے لیے بہتر ہے کہ وہ جواب دینے سے اجتناب کرے۔ «والله اعلم»
➊ نماز اور غیر نماز میں آیات کا جواب ثابت ہے، ان میں سے ایک مقام یہ بھی ہے۔
➋ یہ حدیث صرف قاری یعنی قراءت اور تلاوت قرآن کرنے والے کے لیے ہے، اس سے مقتدی یا سامع کا جواب دینا بہرحال ثابت نہیں ہوتا، اس لیے مقتدی اور سامع کے لیے بہتر ہے کہ وہ جواب دینے سے اجتناب کرے۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 883 سے ماخوذ ہے۔