حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» کہتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (487)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 42 (487)، سنن النسائی/التطبیق 11 (1049)، 75 (1135)، (تحفة الأشراف: 17664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6 /35، 94، 115، 148، 149، 176، 192، 200، 244، 266) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1049 | سنن نسائي: 1135 | صحيح مسلم: 487

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1049 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے ، پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1049]
1049۔ اردو حاشیہ: روح سے کیا مراد ہے؟ کہا جاتا ہے کہ جبریل علیہ السلام یا فرشتوں سے بالا ایک مخلوق جو فرشتوں کو دیکھتی ہے، فرشتے اس کو نہیں دیکھتے یا ارواح انسانیہ۔ لیکن قرآن کریم سے اس کی صراحت ہوتی ہے کہ اس سے مراد جبریل امین ہی ہیں کہ ان کے شرف و مرتبت کی بنا پر بطور خاص فرشتوں کے بعد علیحدہ ذکر کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿نزلَ بِهِ الرُّوحُ الأمِينُ» [الشعراء 193: 26] اس (قرآن) کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1049 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1135 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سجدہ کی ایک اور دعا۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» تمام فرشتے اور جبرائیل کا رب ہر نقص و عیب سے پاک ہے کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1135]
1135۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے، حدیث نمبر: 1049۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1135 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 487 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں یہ کلمات کہتے تھے: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ’’نہایت پاک اور مقدس و منزہ ہے پروردگار ملائکہ کا اور روح کا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1091]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: روح سے مراد جبریل علیہ السلام ہے بعض نے کہا یہ کوئی اور بڑا فرشتہ ہے یا مستقل مخلوق ہے، جس کو فرشتے بھی نہیں دیکھ سکتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 487 سے ماخوذ ہے۔