حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، " أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ ، وَقَالَ : إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطاء سے روایت ہے کہ` وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے : اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 86
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, رواية ابن جريج عن عطاء محمولة علي السماع
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 19062) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 242

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نبیذ سے وضو`
«. . . عَنْ عَطَاءٍ،" أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ، وَقَالَ: إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ . . .»
. . . عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 86]
فوائد و مسائل:
➊ پانی میں کوئی پاک چیز مل جائے تو اس کے پاک رہنے میں کوئی شبہ نہیں، مگر لازمی ہے کہ اس اختلاط سے پانی پانی ہی رہے۔ اگر وہ مائع پانی کے بجائے شربت، لسی یا شوربے وغیرہ سے موسو م ہو جاتا ہے تو وہ پانی نہ رہا اور اس سے وضو یا غسل کا کوئی معنیٰ نہیں۔
➋ ’’نبیذ‘‘ عرب کا خاص مشروب ہے جو وہ خشک کھجور یا منقیٰ کو پانی میں بھگوئے رکھنے سے تیار کرتے تھے جیسے ہمارے ہاں املی اور آلو بخارے سے شربت بنایا جاتا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کی طرح جنوں کی طرف بھی مبعوث کیے گئے تھے، کئی ایک مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تبلیغ اور وعظ بھی فرمایا تھا۔ قرآن مجید میں سورہ جن بالخصوص اس مسئلے کو واضح کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 86 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 242 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´نبیذ سے اور کسی نشہ والی چیز سے وضو جائز نہیں`
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . . . .»
. . . عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو حرام ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ لاَ يَجُوزُ الْوُضُوءُ بِالنَّبِيذِ وَلاَ الْمُسْكِرِ:: 242]
تشریح:
نبیذ کھجور کے شربت کو کہتے ہیں جو میٹھا ہو اور اس میں نشہ نہ آیا ہو۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے وضو جائز رکھا ہے جب پانی نہ ملے اور امام شافعی و امام احمد و دیگر جملہ ائمہ اہل حدیث کے نزدیک نبیذ سے وضو جائز نہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ حسن کے اثر کو ابن ابی شیبہ نے اور ابوالعالیہ کے اثر کو دارقطنی اور عطاء کے اثر کو ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے۔ حدیث الباب کا مقصد یہ ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہوئی تو اس سے وضو کیوں کر جائز ہو گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 242 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
242. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں، آپ نے فرمایا: ’’ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:242]
حدیث حاشیہ: نبیذ کھجور کے شربت کو کہتے ہیں جو میٹھا ہو اور اس میں نشہ نہ آیا ہو۔
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے اس سے وضو جائز رکھا ہے، جب پانی نہ ملے اور امام شافعی وامام احمد ودیگر جملہ ائمہ اہل حدیث کے نزدیک نبیذ سے وضو جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
حسن کے اثر کو ابن ابی شیبہ نے اور ابوالعالیہ کے اثر کو دارقطنی اور عطاء کے اثر کو ابوداؤد نے موصولاً روایت کیا ہے۔
حدیث الباب کا مقصد یہ ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہوئی تو اس سے وضو کیوں کر جائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 242 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
242. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں، آپ نے فرمایا: ’’ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:242]
حدیث حاشیہ:

پانی میں شامل ہونے والی چیزیں دوطرح کی ہوتی ہیں: ناپاک اور پاک۔
پھر پاک کی دوقسمیں ہیں: ایک وہ جو پاک ہونے کے باوجود قابل نفرت ہوتی ہیں، جیسے تھوک یا بلغم وغیرہ۔
دوسری وہ جو قابل نفرت نہیں ہوتیں، جیسے کھجور وغیرہ۔
امام بخاری ؒ کا فیصلہ ہے کہ اگر پانی میں کوئی ناپاک چیز شامل ہوگئی اور اس نے تغیر پیدا کردیا تو اس سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔
اور پاک مگر قابل نفرت چیزوں کے متعلق اس سے پہلے باب میں وضاحت کرآئے ہیں۔
اب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر پانی میں کوئی چیز مل جائے جوپاک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل نفرت نہ ہو اور اس نے پانی کے تینوں اوصاف میں سے کوئی وصف بدل دیا اس پر پانی کا اطلاق نہ ہوسکے تو اس سے وضو جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر پانی میں ملنے والی کسی چیز سے نہ پانی کا نام بدلا اور نہ اس کے اوصاف ہی میں کوئی تبدیلی آئی، ایسی صورت میں اس سے وضو کرنا ناجائز نہیں ہوگا۔

امام بخاری ؒ نے اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے حدیث عائشہ ؓ کو بیان فرمایا ہے کہ ہروہ مشروب جو نشہ آور ہوحرام ہے۔
وضو ایک عبادت ہے جس میں کسی حرام چیز کو استعمال نہیں کیا جاسکتا، لہذا نشہ آور چیز سے وضو کرنا حرام ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال بایں طور ہے کہ سکر(نشہ آورچیز)
میں تعمیم ہے: سکر بالفعل ہو، جیسے شراب وغیرہ یا بالقوہ ہو، جیسے نبیذ وغیرہ، ان سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔
نبیذ میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ اگر سے زیادہ دیر تک رکھا جائے یا اسے زیادہ جوش دیا جائےتو اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ نبیذ تیار ہوجانے کے بعد اس سے لفظ’’پانی‘‘ زائل ہوجاتا ہے، یعنی اس پر پانی کالفظ نہیں بولا جاتا جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾’’جب تم پانی نہ پاؤ تو پاکیزہ مٹی سے تیمم کرلو۔
‘‘(المائدہ۔

6)
امام بخاری ؒ نے اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ نبیذ کی موجودگی میں تیمم تو ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پانی نہیں۔
واضح رہے کہ جن روایات میں نبیذ سے وضو کرنے کی اجازت مروی ہے وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں، لہٰذا انھیں بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔

امام تدبر نے اس مقام پر بھی تدبر سے کام نہیں لیا اور جھٹ سے امام بخاری ؒ پراعتراض جڑ دیا ہے، ملاحظہ فرمائیں: ’’معلوم نہیں اس باب کے باندھنے کی کیا ضرورت تھی؟ پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے وضو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
‘‘(تدبرحديث: 334/1)
فقہائے احناف نے نبیذ سے وضو کرنے کے لیے ا پنی تمام ترعلمی اورفکری توانائیوں کو صرف کرڈالا ہے۔
فقہ کی ہرکتاب میں اسے بڑی شدومد سے بیان کیا گیا ہے۔
امام بخاری ؒ ان حضرات کی یہاں تردید فرمارہے ہیں، لیکن اصلاحی صاحب اس سے بے خبر ہیں نہ معلوم کیوں؟
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔