حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي التَّطَوُّعَ نَدْعُو قِيَامًا وَقُعُودًا ، وَنُسَبِّحُ رُكُوعًا وَسُجُودًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحسن البصري مدلس و عنعن ولم يسمع من سيدنا جابر رضي اللّٰه عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 43
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2220) (ضعیف) » (حسن بصری نے جابر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ان پڑھ (اُمّی) اور عجمی کے لیے کتنی قرآت کافی ہے؟`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 833]
833۔ اردو حاشیہ:
یہ ضعیف ہونے کے ساتھ موقوف بھی ہے۔ یعنی ایک صحابی کا عمل۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 833 سے ماخوذ ہے۔