سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ فِي النَّعْلِ باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 777 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب امام لوگوں کو نماز پڑھائے تو اپنے جوتے کہاں رکھے؟`
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 777]
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 777]
777۔ اردو حاشیہ: چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور آپ کے بائیں جانب کوئی نہ تھا، لہٰذا آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ اگر بائیں طرف کوئی آدمی کھڑا ہو تو بائیں طرف جوتے نہیں رکھنے چاہئیں۔ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا ضروری نہیں، صرف جائز ہے، البتہ آپ کے دور میں جب یہودی بھی مدینہ منورہ میں رہتے تھے، جوتوں میں نماز پڑھنا مستحب تھا کیونکہ اس سے امتیاز ہوتا تھا۔ آج کل اسلامی ممالک میں یہودی نہیں ہیں، لہٰذا جوتے میں نماز مستحب نہیں بلکہ حسب ضرورت صرف جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 777 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1008 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سورت کا کچھ حصہ پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1008]
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1008]
1008۔ اردو حاشیہ: ➊ اگر سورت کو مکمل پڑھنا ضروری ہوتا تو آپ کھانسی ختم ہونے کا انتظار فرماتے، پھر سورت کو مکمل فرماتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانسی آنے پر رکوع میں چلے جانا جواز کی دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے اسے کوئی عذر قرار دے، مگر حدیث: 992 میں سورۂ اعراف کو آپ نے بلاعذر دو رکعتوں میں تقسیم کیا۔ یہ حدیث اس مسئلے میں صریح دلیل ہے۔
➋ جب نماز میں کوئی عارضہ لاحق ہو جائے تو نماز کو مختصر کر لینا چاہیے۔
➋ جب نماز میں کوئی عارضہ لاحق ہو جائے تو نماز کو مختصر کر لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1008 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1431 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟`
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1431]
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1431]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جوتے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
اور جوتے اُتار کر پڑھنا بھی۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1038)
(2)
جوتے اُتار کرنماز پڑھیں۔
تو انھیں بایئں طرف رکھیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
جوتے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
اور جوتے اُتار کر پڑھنا بھی۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1038)
(2)
جوتے اُتار کرنماز پڑھیں۔
تو انھیں بایئں طرف رکھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1431 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 840 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
840- سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مؤمنون کی تلاوت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے تذکرے پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں بلغم آگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:840]
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں دوران قرٱت کوئی عارضہ پیش آ جائے تو سورۃ مکمل پڑھے بغیر رکوع کیا جا سکتا ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں دوران قرٱت کوئی عارضہ پیش آ جائے تو سورۃ مکمل پڑھے بغیر رکوع کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 841 سے ماخوذ ہے۔