سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْمَشْىِ إِلَى الصَّلاَةِ فِي الظُّلَمِ باب: اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْكَحَّالُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 561]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 561]
561. اردو حاشیہ:
اس میں آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے: «نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ» [تحريم۔80]
”ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دایئں دوڑتا ہوگا، کہیں گے۔ اے ہمارے رب! ہمارے لئے ہمارا نور پورا کر دے۔ اور ہمیں بخش دے۔“
اس میں آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے: «نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ» [تحريم۔80]
”ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دایئں دوڑتا ہوگا، کہیں گے۔ اے ہمارے رب! ہمارے لئے ہمارا نور پورا کر دے۔ اور ہمیں بخش دے۔“
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 561 سے ماخوذ ہے۔