سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى باب: یتیم کی کفالت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5147
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، فَلَهُ الْجَنَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی ، انہیں ادب ، تمیز و تہذیب سکھائی ( حسن معاشرت کی تعلیم دی ) ان کی شادیاں کر دیں ، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا ، تو اس کے لیے جنت ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1912 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1912]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1912]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1973، والأدب المفرد، باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الألباني: 409، والسراج المنیر: 2/ 1049)
نوٹ:
(اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1973، والأدب المفرد، باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الألباني: 409، والسراج المنیر: 2/ 1049)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1912 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1916 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1916]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1916]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: یعنی: ضعیف ہے۔
نوٹ:
(ملاحظہ ہو: حدیث رقم: 1912، وصحیح الترغیب: 1973)
وضاحت: 1 ؎: یعنی: ضعیف ہے۔
نوٹ:
(ملاحظہ ہو: حدیث رقم: 1912، وصحیح الترغیب: 1973)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1916 سے ماخوذ ہے۔