حدیث نمبر: 5125
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْلَمْتَهُ ؟ قَالَ : لَا , قَالَ : أَعْلِمْهُ , قال : فَلَحِقَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ , فَقَالَ : أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” اسے بتا دو “ یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں ، اس نے کہا : تم سے وہ ذات محبت کرے ، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5017)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/141) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی جس سے محبت کرے اس سے کہہ دے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسے بتا دو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5125]
فوائد ومسائل:
للہ فی اللہ محبت کرنے کی بے انتہا فضیلت ہے۔
مثلاً ایسے لوگوں کو محشر میں اللہ عزوجل کا سایہ نصیب ہوگا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث 660۔
وصحیح مسلم، الزکوة، حدیث: 1031) اور اس خبر دینے کا فائدہ یہ ہے کہ دوسری طرف سے بھی محبت مذید کا جواب ملے گا۔
اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کی خیر خواہی ہوگی اور وہ کار خیر میں ایک دوسرے کے معاون بنیں گے۔
اور غلطی و تقصیر پر متنبہ کرنے میں کوئی رنجش نہیں آئے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5125 سے ماخوذ ہے۔