حدیث نمبر: 5120
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ " , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ضَعِيفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا : ” تم میں بہتر وہ شخص ہے ، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے ، جب تک کہ وہ ( اس دفاع سے ) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب بن سوید ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, أيوب بن سويد ضعيف علي الراجح انظر التحرير (615) وقال الھيثمي : ولكن ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 130), وسعيد لم يسمع من سراقة رضي اللّٰه عنه (انظر عون المعبود 494/4), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3817) (ضعیف) » (مؤلف نے سبب بیان کر دیا کہ ایوب بن سوید ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 1172

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عصبیت (تعصب) کا بیان۔`
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5120]
فوائد ومسائل:
یہ ر وایت سنداضعیف ہے۔
تاہم گناہ اور ظلم کے کام میں اپنی قوم کا معاون بننا حرام ہے۔
اور یہی وہ تعصب ہے جس کی ممانعت آئی ہے۔
بلکہ صریح حکم ہے کہ (ۘوَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) (المائدة۔
2) نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اورزیادتی کے کاموں میں باہم تعاون مت کرو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5120 سے ماخوذ ہے۔