حدیث نمبر: 5117
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رُدِّيَ فَهُوَ يُنْزَعُ بِذَنَبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: تو جس طرح دم پکڑ کر اونٹ کا نکالنا ممکن نہیں ہے ایسے ہی متعصب شخص کا جہنم سے نکلنا بھی ناممکن ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوف مرفوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9363) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عصبیت (تعصب) کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5117]
فوائد ومسائل:
ناحق طور پر اپنی قوم کی مدد کرنے والا اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتا۔
لہذا صاحب ایمان کو ایسے غلط عمل سے باز رہنا چاہیے۔
بلکہ انہیں حق کی تلقین کرنی چاہیے۔
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے۔
مگر اگلی سند سے جو مرفوع ہے اس کی تایئد ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5117 سے ماخوذ ہے۔