حدیث نمبر: 5087
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ ، يَقُولُ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ ، أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ ، مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ ، اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلَاتِي ، وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي ، كَانَ فِي اسْتِثْنَاءٍ يَوْمَهُ ذَلِكَ ، أَوْ قَالَ : ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے` جو شخص صبح کرتے وقت کہے «اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» ” اے اللہ ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے ، جو تو ، چاہے گا ہو گا ، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا ، اے اللہ ! تو مجھے بخش دے ، اور مجھ سے درگزر فرما ، اے اللہ ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو “ ۔ تو وہ اس دن کے ( فتنوں ) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا ، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5087
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) » (قاسم بن عبدالرحمن المسعودی کی ابوذر سے روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ دونوں میں لقاء و سماع نہیں ہے)