حدیث نمبر: 5041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر ( کی مڈیر ) نہ ہو ( یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو) تو اس سے ( حفاظت کا ) ذمہ اٹھ گیا ( گرے یا بچے وہ جانے ) ۔“

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4720), وله شاھد عند أحمد (5/79، 271 وسنده حسن، زھير بن عبد الله حسن الحديث)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10020) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بغیر چہار دیواری کی چھت پر سوئے تو کیسا ہے؟`
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر (کی مڈیر) نہ ہو (یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو) تو اس سے (حفاظت کا) ذمہ اٹھ گیا (گرے یا بچے وہ جانے)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5041]
فوائد ومسائل:

یعنی ایسی صورت میں اگر وہ گر کر ہلاک ہوجائے۔
یا نقصان اُٹھائے تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔
اور ایسی ننگی چھت پرسونا جائز نہیں۔


شریعت کا تعلق صرف نماز روزے حج زکواہٓ یا مسجد ہی سے نہیں بلکہ یہ مسلمان کی پوری زندگی کو محیط ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5041 سے ماخوذ ہے۔