مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَتْ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا : يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ ، فَكَانَ يَقُولُ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے «يرحمكم الله» ” تم پر اللہ کی رحمت ہو “ کہہ دیں ، لیکن آپ فرماتے : «يهديكم الله ويصلح بالكم» ” اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5038
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4740), أخرجه الترمذي (2739 وسنده صحيح) سفيان الثوري صرح بالسماع عند الحاكم (4/268)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2739

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ذمی کی چھینک کا جواب کیسے دیا جائے؟`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے «يرحمكم الله» تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5038]
فوائد ومسائل:
غیر مسلم کو چھینک ک جواب میں (يرحمك الله) كی بجائے۔
(يهديكم الله يصلح بالكم) جیسا کہ اسے (السلام عليكم) کہنے میں ابتداء نہیں کی جا سکتی۔
اور وہ کہے تو جواباً صرف علیکم کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5038 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2739 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چھینکنے والے کا جواب کس طرح دیا جائے؟`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تو یہ امید لگا کر چھینکتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے «يرحمكم الله» اللہ تم پر رحم کرے کہیں گے۔ مگر آپ (اس موقع پر صرف) «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کر دے فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2739]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیرمسلموں کی چھینک کے جواب میں صرف (يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ) کہا جائے۔
اور (یَرْحَمُکُمُ اللہ) (اللہ تم پر رحم کرے) نہ کہا جائے کیونکہ اللہ کی رحمت اخروی صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2739 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔