مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5037
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، ثُمَّ عَطَسَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الرَّجُلُ مَزْكُومٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا : «يرحمك الله» ” اللہ تم پر رحم فرمائے “ اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا : ” آدمی کو زکام ہوا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2993)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2993 | سنن ترمذي: 2743

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: «يرحمك الله» اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5037]
فوائد ومسائل:
پہلی بار چھینک کا جواب دینا لازم ہے۔
اس کے بعد نہیں جیسے صحیح مسلم سے بھی اشارہ ملتا ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الزھد۔
حدیث: 2993)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5037 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2993 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا:آپ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ نے اسے دعا دی "يَرْحَمُكَ اللَّهُ" اللہ تم پر رحم فرمائے۔"اسے دوسری چھینک آئی تو آپ نے فرمایا "اس شخص کو زکام ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7489]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: زکام کی وجہ سے چھینکیں آئیں، تو ایک بار دعا کافی ہے، عام حالات میں آپ نے تین دفعہ دعادی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2993 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2743 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله» (اللہ تم پر رحم فرمائے) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: اسے تو زکام ہو گیا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2743]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ ایک یا دو سے زیادہ بار چھینک آنے پرجواب دینے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2743 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔