حدیث نمبر: 5034
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا ، فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن موقوف ومرفوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4743)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13051) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5034]
فوائد ومسائل:
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے۔
مگر مرفوع بھی ثابت ہے، جیسے اگلی روایت میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5034 سے ماخوذ ہے۔