سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب كَمْ مَرَّةٍ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ باب: چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟
حدیث نمبر: 5034
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا ، فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5034]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5034]
فوائد ومسائل:
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے۔
مگر مرفوع بھی ثابت ہے، جیسے اگلی روایت میں ہے۔
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے۔
مگر مرفوع بھی ثابت ہے، جیسے اگلی روایت میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5034 سے ماخوذ ہے۔