سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ باب: جمائی لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5026
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے ، اس لیے کہ شیطان ( منہ میں ) داخل ہو جاتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2995 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے،تو مقدور بھر اس کو روکے،کیونکہ(منہ میں)شیطان داخل ہوجاتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7493]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عام حالات میں جمائی آنے پر، اس کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن نماز کی حالت میں اس کی تاکید زیادہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2995 سے ماخوذ ہے۔