حدیث نمبر: 4993
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ ، قال أبو داود : وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرٍ ، قَالَ نَصْرٌ : ابْنِ نَهَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ نَصْرٌ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " , قال أبو داود : مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حسن ظن کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4993 سے ماخوذ ہے۔