حدیث نمبر: 4982
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : " كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَثَرَتْ دَابَّةٌ ، فَقُلْتُ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ : لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ ، وَيَقُولُ : بِقُوَّتِي , وَلَكِنْ قُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ` اس نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا ، کہ آپ کی سواری پھسل گئی ، میں نے کہا : شیطان مرے ، تو آپ نے فرمایا : ” یوں نہ کہو کہ ” شیطان مرے “ اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا ، اور کہے گا : میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا ، بلکہ یوں کہو : اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: ” یوں نہ کہو کہ ” شیطان مرے “ اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4982]
ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: ” یوں نہ کہو کہ ” شیطان مرے “ اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4982]
فوائد ومسائل:
الله كے نام میں بڑی برکت ہے۔
اس سے شیطان ذلیل ورسوا ہوتا ہے، لہذا بندے کو ہر موقع پر مسنون اذکار پڑھنے کا حریص ہونا چاہیے۔
الله كے نام میں بڑی برکت ہے۔
اس سے شیطان ذلیل ورسوا ہوتا ہے، لہذا بندے کو ہر موقع پر مسنون اذکار پڑھنے کا حریص ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4982 سے ماخوذ ہے۔