حدیث نمبر: 4980
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "لَا تَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ ، وَلَكِنْ قُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یوں نہ کہو : جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ۱؎ “ بلکہ یوں کہو : جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس جملہ میں اللہ کی مشیت کے ساتھ دوسرے کی مشیت شامل ہے جب کہ اللہ چاہے پھر فلاں چاہے میں ایسی بات نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے چاہنے کے بعد پھر دوسرے کے چاہنے میں کوئی قباحت نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4980
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4778)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 394، 398) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ۱؎ بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4980]
فوائد ومسائل:
پہلے جملےمیں اللہ کی مشیت (چاہنے) میں اوروں کو بھی شریک کرنا ہے۔
جو ناجائز اور حرام ہے، بلکہ وہی ہوتا ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ چاہے، البتہ دوسرے جملے میں فرق کے ساتھ دوسروں کی مشیت کا اظہار کردے، تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4980 سے ماخوذ ہے۔