سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَنْ رَأَى أَنْ لاَ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت ایک ساتھ نہ رکھے اس کے قائلین کی دلیل۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي ، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي " , قَالَ أبو داود : وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قال أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَلَى مَا قال ابْنُ سِيرِينَ ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ .
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرا نام رکھے ، وہ میری کنیت نہ رکھے ، اور جو میری کنیت رکھے ، وہ میرا نام نہ رکھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے ، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے ، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے ، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے ، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے ، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے ، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعضوں نے اسے ممانعت تنزیہی قرار دیا ہے۔
بعضوں نے کہا محمد یا احمد ناموں کے ساتھ ابوالقاسم کنیت رکھنی منع ہے۔
امام مالک ؒ کے قول کو ترجیح هے۔
1۔
حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺابوالقاسم اس لیے تھے کہ آپ لوگوں میں مال ومتاع تقسیم کرنے والے تھے اگرچہ آپ کے صاحبزادے کا نام بھی قاسم تھا لیکن آپ نے اس وجہ سے کنیت ذکر نہیں فرمائی۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاری کو بچے کا نام قاسم رکھنے سے منع کیا گیا،حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا نام قاسم نہیں بلکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی، اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی بچے کا نام قاسم رکھاجائے گا تو اس کا والد ابو القاسم ہوگا۔
اس بنا پر باپ کی کنیت رسول اللہ ﷺ کی کنیت جیسی ہوگی، ایسا التباس اور اشتباہ سے بچنے کے لیے تھا۔
3۔
یاد رہے کہ نام یا کنیت رکھنے کی ممانعت رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود تھی۔
اب کسی قسم کے اشتباہ یا التباس کا اندیشہ نہیں ہے، لہذا دونوں جائز ہیں۔
4۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف خمس کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ آپ اسے تقسیم کرنے والے ہیں، مالک نہیں ہیں۔
امام بخاری ؒنے اپنے مدعا پر اس طرح دلیل قائم کی ہے کہ آپ نے اپنانام قاسم رکھا ہے۔
دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔
واللہ أعلم۔
تاکہ لوگ اسے ابوالقاسم کہیں مگر انصار نے اس کی مخالفت کی جس کی آنحضرت ﷺ نے تحسین فرمائی۔
اس میں راویوں نے شعبہ سے اختلاف کیا ہے۔
جیسے ابوالولید کی روایت اوپر گزری۔
انہوں نے یہ کہا ہے کہ انصاری نے محمد نام رکھنا چاہا تھا۔
قال الشیخ ابن الحجر بین البخارأ الاختلاف علی شعبة ھل أراد الأنصاري أن ابنه محمداً أو القاسم وأشار إلیٰ ترجیح أنه أراد أن یسمه القاسم بروایة سفیان وھو الثوري له عن الأعمش فسماہ القاسم ویترجح أیضاً من حیث المعنی لأنه لم یقع الإنکار من الأنصار علیه إلاحیث لزم من تسمیة ولدہ القاسم أن یصیر بکنی أباالقاسم انتھی (حاشیہ بخاری)
یعنی حضرت امام بخاری نے شعبہ پر اختلاف کو بیان کیا ہے جو اس بارے میں واقع ہو ا کہ انصاری قاسم رکھنا چاہتا تھا یا محمد اور اس ترجیح پر آپ نے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ قاسم نام رکھنا چاہتا تھا معنی کے لحاظ سے بھی اسی کو ترجیح حاصل ہے‘ انصار کا انکار اسی وجہ سے تھا۔
کہ وہ بچے کا نام قاسم رکھ کر خواابوالقاسم کہلانا چاہیں۔
1۔
امام بخاری ؒنے مذکورہ روایت لا کر اس امر کو تقویت دی ہے کہ انصاری نے اپنے لڑکے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تاکہ لوگ اسے ابو القاسم کی کنیت سے یاد کریں مگر انصارنے اس کی مخالفت کی تو رسول اللھ ﷺ نے اس کردار کی تحسین فرمائی۔
بعض روایات میں ہے کہ انصاری نے اپنے بچے کا نام محمد رکھنا چاہا تھا، لیکن یہ روایت مرجوح ہے۔
بہرحال یہ ممانعت صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود تھی۔
2۔
اس امر میں اختلاف ہے کہ خمس میں رسول اللہ ﷺ اپنے حصے کے مالک تھے یا آپ صرف تقسیم کرنے والے تھے؟ امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے مالک نہیں بلکہ اس کی تقسیم آپ کے ذمے ہوتی تھی۔