حدیث نمبر: 4897
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَسَاقَ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , كَمَا قَالَ سُفْيَانُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بدلہ لینے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4897]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4897]
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائی اگر کسی وقت تلخی میں آ جائے تو حتی الامکان صبر و حلم سے برداشت کرنا چاہیے۔
غلط باتوں کا جواب دینے کےلیے اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔
جب انسان از خود بدلہ لینے پر آجاتا ہے تو اللہ تعالی کی نصرت اور تائید ختم ہو جاتی ہے۔
مسلمان بھائی اگر کسی وقت تلخی میں آ جائے تو حتی الامکان صبر و حلم سے برداشت کرنا چاہیے۔
غلط باتوں کا جواب دینے کےلیے اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔
جب انسان از خود بدلہ لینے پر آجاتا ہے تو اللہ تعالی کی نصرت اور تائید ختم ہو جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4897 سے ماخوذ ہے۔