حدیث نمبر: 4843
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ، أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ ،عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَالْجَافِي عَنْهُ وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ۱؎ اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو ، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے ۔

وضاحت:
۱؎: غلو کرنے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو قرآن مجید پر عمل کرنے، اس کے متشابہات کے معانیٰ میں کھوج کرنے نیز اس کی قرات اور اس کے حروف کو مخارج سے ادائیگی میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو كنانة مجهول (تق : 8327), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9150) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہر آدمی کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھنے کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ۱؎ اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4843]
فوائد ومسائل:
1) جس شخص کی جوانی اسلام میں گزری ہو اور بڑھاپا آگیا ہو تو وہ بندہ اللہ تعالی کے نزدیک بہت مکرم اور باعزت ہوتا ہے۔
اسلامی معاشرے میں انھیں وقار دیا جانا لازمی ہے۔

2) صاحبِ قرآن یعنی حافظ، قاری، مدرس، مفسر اور داعی اسلام جو فی الواقع شرعی حدود کے پابند ہوں، تجاوز کریں نہ تقصیر کریں، انکا احترام بھی لازمی ہے۔

3) حدود اللہ نافذ کرنے والے منصف حاکم کا بھی یہی حق ہے کہ اس کا اعزاز و اکرام کیا جائے۔
ان حضرات کی اہمیت کے پیشِ نظر ہے، اللہ عزوجل نے ان کے اعزاز و اکرام کو اپنے اعزاز کا حصہ قرار دیا ہے۔
اور یہ بیان بطور تمثیل اور مبالغہ کے ہے۔

4) یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن درجے کی ہے۔
دیکھئے: (صحیح الجامع، حدیث: 2095)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4843 سے ماخوذ ہے۔