سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ باب: کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 4830
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ،حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْكَلَامِ الْأَوَّلِ إِلَى قَوْلِهِ : وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مَثَلَ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے` شروع سے «طعمها مر» ( اس کا مزا کڑوا ہے ) تک اسی طرح مرفوعاً مروی ہے ، اور ابن معاذ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اور ہم آپس میں کہتے تھے کہ اچھے ہم نشین کی مثال ، پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی ۔