سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ باب: نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4814
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث میں «أبلى بلائً» جو «من أعطى عطائًا» کے معنیٰ میں ہے «بلاء» کا لفظ خیر اور شر دونوں معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4814]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4814]
فوائد ومسائل:
مناسب مقام اور مناسب انداز سے منعم اور محسن کے احسان کا ذکرِ خیر کرنا حق ہے اور قدر دانی میں شمار ہے۔
اس سے اُلفت بڑھتی ہے اور اس کے بر خلاف میں کبیدگی آتی ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں: (الصحیحة: حدیث: 618)
مناسب مقام اور مناسب انداز سے منعم اور محسن کے احسان کا ذکرِ خیر کرنا حق ہے اور قدر دانی میں شمار ہے۔
اس سے اُلفت بڑھتی ہے اور اس کے بر خلاف میں کبیدگی آتی ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں: (الصحیحة: حدیث: 618)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4814 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4813 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4813]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4813]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4813 سے ماخوذ ہے۔