حدیث نمبر: 4790
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَاهُ جَمِيعًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4790
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1964), رجل مجهول ويحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن وبشر بن رافع ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البر والصلة 41 (1964)، (تحفة الأشراف: 15362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/394) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1964

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حسن معاشرت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4790]
فوائد ومسائل:
بعض محقیقین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4790 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1964 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بخیل کی مذمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے، اور فاجر دھوکہ باز اور کمینہ خصلت ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1964]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی مومن اپنی شرافت اور سادگی کی وجہ سے دنیاوی منفعت کو منفعت سمجھتے ہوئے اس کا حریص نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات دھوکہ کھا کر اسے نقصان بھی اٹھانا پڑتاہے، اس کے برعکس ایک فاجر شخص دوسروں کو دھوکہ دے کر انہیں نقصان پہنچاتا ہے جو اس کے کمینہ خصلت ہونے کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1964 سے ماخوذ ہے۔