سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ باب: حسن معاشرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4788
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّيْءُ ، لَمْ يَقُلْ : مَا بَالُ فُلَانٍ يَقُولُ ، وَلَكِنْ يَقُولُ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے : ” فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے ؟ “ بلکہ یوں فرماتے : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حسن معاشرت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: ” فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟ “ بلکہ یوں فرماتے: ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4788]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: ” فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟ “ بلکہ یوں فرماتے: ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4788]
فوائد ومسائل:
نصیحت کا پہلا اور عمدہ ترین ادب یہی ہے کہ اشارے اور کنائے سے بات ہو اور ایسے ہی خطیب کو بھی کسی فرد کی بصراحت نشاندہی سے بچنا چاہیے۔
نصیحت کا پہلا اور عمدہ ترین ادب یہی ہے کہ اشارے اور کنائے سے بات ہو اور ایسے ہی خطیب کو بھی کسی فرد کی بصراحت نشاندہی سے بچنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4788 سے ماخوذ ہے۔