سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔
حدیث نمبر: 4715
قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُد : قُرِئ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا أَسْمَعُ ، أَخْبَرَكَ يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا قِيلَ لَهُ : إِنَّ أَهْلَ الْأَهْوَاءِ يَحْتَجُّونَ عَلَيْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ مَالِكٌ " احْتَجَّ عَلَيْهِمْ بِآخِرِهِ ، قَالُوا : أَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن وہب کہتے ہیں کہ` میں نے مالک کو کہتے سنا ، ان سے پوچھا گیا : اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں ؟ مالک نے کہا : تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو ، اس لیے کہ اس میں ہے : صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔`
ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت (قدریہ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4715]
ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت (قدریہ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4715]
فوائد ومسائل:
رسول ؐ کے جواب سے واضح ہوا کہ ان کا فیصلہ ان کے اس عمل اور امتحان پر ہو گا جو محشر میں ہو گا، اور اس میں جبر مکمل طور پر نفی ہے۔
رسول ؐ کے جواب سے واضح ہوا کہ ان کا فیصلہ ان کے اس عمل اور امتحان پر ہو گا جو محشر میں ہو گا، اور اس میں جبر مکمل طور پر نفی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4715 سے ماخوذ ہے۔