حدیث نمبر: 4644
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ قَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا لَأَذَرَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الذَّاهِبِ ، يَعْنِي الْمَوَالِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اعمش کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا : یہ گورے ( عجمی ) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ ، موالی ( غلامو ) سنو ، اللہ کی قسم ، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا ، یعنی عجمیوں کو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18784) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خلفاء کا بیان۔`
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: یہ گورے (عجمی) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ، موالی (غلامو) سنو، اللہ کی قسم، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا، یعنی عجمیوں کو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4644]
فوائد ومسائل:
لاٹھی کو لاٹھی پر مارا یعنی ان کا قلع قمع کرنے کا ارادہ کیا تو۔
۔
۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ دین کے بجائے عربوں کی قومی عصبیت پر اس کا ایمان تھا۔
فوائد ومسائل بنوزرقاء سے مراد بنو مروان ہیں، زرقاء ان کے نسب میں آتی ہے جس کی یہ اولاد ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4644 سے ماخوذ ہے۔