حدیث نمبر: 4452
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : مُجَالِدٌ أَخْبَرَنَا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " جَاءَتْ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ زَنَيَا ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ مِنْكُمْ فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا ، فَنَشَدَهُمَا : كَيْفَ تَجِدَانِ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي التَّوْرَاةِ ؟ قَالَا : نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَا ، قَالَ : فَمَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تَرْجُمُوهُمَا ، قَالَا : ذَهَبَ سُلْطَانُنَا فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّهُودِ ، فَجَاءُوا بِأَرْبَعَةٍ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ “ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا : ” تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو ؟ “ ان دونوں نے کہا : ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا ، وہ چار گواہ لے کر آئے ، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2374), مجالد ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/ الأحکام (2328)، (تحفة الأشراف: 2346)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/387)، صحیح مسلم/الحدود 6 (2374) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1700 | سنن ابي داود: 4455 | سنن ابن ماجه: 2328 | مسند الحميدي: 1331

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا: تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4452]
فوائد ومسائل:
اہل کتاب اور دیگر غیر مسلموں کی آپس میں گواہیاں معتبر ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4452 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4455 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4455]
فوائد ومسائل:
یہودی مرد عورت کے بارے میں جنہوں نےزنا کا ارتکاب کیا تھا، مذکورہ روایات میں بعض میں تویہ بیان ہوا ہے کہ ان کی سزا کی بابت انہوں نے آکر پہلے رسول اللہﷺ کے پاس ہوا تو رسول اللہ نے ان سے زنا کاری کی سزا پوچھی۔
اسکی توجیہہ میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ یا تو الگ الگ دو واقعہ ہیں یا پہلے انہوں نے اپنے طور پر فوری سزا دے لی اور پھر بعد میں سوال جواب ہوئے جب ان کا گزر رسول اللہﷺ کے پاس ہوا۔
واللہ اعلم (عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4455 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2328 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اہل کتاب کو کن الفاظ میں قسم دلائی جائے گی اس کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2328]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مذکورہ روایت کو بعض محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
یہود ونصاریٰ کے مذہب میں بھی جھوٹی قسم کھانا حرام ہے اس لیے ضرورت کےوقت ان سے قسم لی جا سکتی ہے۔

(2)
  غیر مسلموں سے بھی اللہ ہی کی قسم لی جائے۔

(3)
یہود و تورات کا ادب کرتے اور اس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اس لیے ان کے عقیدے کے مطابق قسم لی جا سکتی ہے لیکن ایسے الفاظ سے جو اسلامی عقیدے کےبھی خلاف نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2328 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1331 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1331- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فدک کے رہنے والے ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا، تو فدک کے رہنے والے لوگوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو خط لکھا کہ تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرو اگر وہ تمہیں کوڑے مارنے کاحکم دیں، تو تم اسے حاصل کر لینا اور اگر تمہیں سنگسار کرنے کاحکم دیں، تو تم اسے اختیار نہ کرنا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے میں سے دو زیادہ علم رکھنے والے افراد کو میرے پاس بھجواؤ، تو وہ لوگ ایک کانے شخص کولے کر آئے جس کا نام صوری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1331]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ یہودی بھی اپنے بعض مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حل کرواتے تھے، اور اپنا منصف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقرر کرتے تھے لیکن بعض اوقات اپنے مطلب کے ناکام فتویٰ کی کوشش کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن و حدیث کے مطابق فتویٖ دیتے تھے۔
جب بھی کسی فریق مخالف سے بات کرنی ہو تو ان کے اہل علم سے بات کرنی چاہیے، نہ کہ جاہل سے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جاہلوں سے اعراض کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الاعراف: 199)
یہودی ایک ناکام سازش کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت مبارکہ میں فیصلہ لے کر آتے تھے لیکن آپ نے انھی کی کتاب سے اور انھی کے اہل علم کی زبانی اقرار کروایا اور شادی شدہ زانی کو رجم کیا گیا۔
یہاں سے ایک اہم اصول مناظرہ سمجھ میں آتا ہے کہ فریق مخالف کی کتاب سے ہی وہ بات ثابت کی جائے، پھر اس بات کا فریق مخالف کے اہل علم سے اقرار کروایا جائے، یہ سب سے مؤثر ترین مناظرہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام ہمیشہ انصاف کے ساتھ ہی فیصلہ کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1330 سے ماخوذ ہے۔