سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَصِيرًا أَعْضَلَ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَعَلَّكَ قَبَّلْتَهَا ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْآخِرُ ، قَالَ : فَرَجَمَهُ ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ : أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، أَمَا إِنَّ اللَّهَ إِنْ يُمَكِّنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَلْتُهُ عَنْهُنَّ " .
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے ، ان کے جسم پر چادر نہ تھی ، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا ، پھر خطبہ دیا ، اور فرمایا : ” آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں ، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے ، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان ( جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے ) تو سن لو ! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا ( یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اعضل: مضبوط تن و توش کا مالک یعنی مستحکم جسم والا۔
(2)
آخر: حقیر، کمینہ۔
(3)
نبيب: وہ آواز جو نر بکرا، بکری سے جفتی کرتے وقت نکالتا ہے۔
(4)
الكثبة: تھوڑا سا دودھ یا کوئی معمولی اور حقیر چیز۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مجرم کو اپنے اقرار اور اعتراف سے نکلنے کی راہ سمجھانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ عادی مجرم نہ ہو اور اگر حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی حدود کے اقرار سے پھر جاتا ہے اور اس کے خلاف بینہ موجود نہیں ہے تو اس کے رجوع کو بھی مان لیا جائے گا۔
(شرح نووي، مسلم، ج 2 ص 77)
لیکن عادی مجرم کو عبرتناک سزا دینی چاہیے، جیسا کہ آپ کے خطبہ سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ سے معلوم ہوتا ہے، حضرت ماعز ان میں داخل نہیں تھے، کیونکہ ان کے بارے میں فرما رہے ہیں، میں ان کو اگر قابو میں آ گئے، عبرت بنا ڈالوں گا اور حضرت ماعز کو نکلنے کی تلقین فرما رہے ہیں اور آگے صریح روایت آ رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: واپس چلے جاؤ، اللہ سے بخشش طلب کرو، توبہ کر لو، بار بار یہ کہا، چوتھی بار پوچھا، دیوانے تو نہیں ہو، شراب تو نہیں پی ہے اور پھر اس کی توبہ کی تعریف فرمائی، جو انہوں نے حد کا تقاضا کر کے عملی صورت میں دیکھی تھی۔