حدیث نمبر: 4368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ زَادَ ثُمَّ نَهَى ، عَنِ الْمُثْلَةِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ خِلَافٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَسَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ ثَابِتٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرَا مِنْ خِلَافٍ وَلَمْ أَجِدْ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ قَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے` اس میں یہ اضافہ ہے ” پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا “ اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر ۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے ، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا ، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1501، 5685)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (4364)، (تحفة الأشراف: 1385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔`
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4368]
فوائد ومسائل:
یہ سزا قرآنی حکم کے مطابق ہے۔
قرآن مجید کی نص سورہ مائدہ کی آیت33 میں یہ حکم بصراحت موجود ہے اور اس عمل کو مثلہ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ حد شرعی ہے اور ان لوگوں سے قصاص کا معاملہ کیا گیا تھا۔
اور مثلہ جس کی ممانعت آئی ہے وہ قتل کر دینے کے بعد نعش کے اعضاء کاٹنا ہے جو اسلام میں کسی طرح جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4368 سے ماخوذ ہے۔