سنن ابي داود
كتاب الملاحم— کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4315
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ بَحْرًا مِنْ مَاءٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَالَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ وَالَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ` حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا : دجال کے ساتھ جو چیز ہو گی میں اسے خوب جانتا ہوں ، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہو گی اور ایک آگ کی ، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا ، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہو گی ، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا ۔ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دجال کے نکلنے کا بیان۔`
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا: دجال کے ساتھ جو چیز ہو گی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہو گی اور ایک آگ کی، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہو گی، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4315]
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا: دجال کے ساتھ جو چیز ہو گی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہو گی اور ایک آگ کی، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہو گی، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4315]
فوائد ومسائل:
سیدنا حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں اکٹھے ہوئے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں دجال اور اس کے ساتھ جو کچھ ہو گا، اس سے خوب باخبر ہوں، بیشک اس کے ساتھ پانی کا سمندر اور آگ کا دریا ہو گا، جسے تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا اور جسے تم پانی سمجھ رہے ہو گے وہ آگ ہو گی۔
چنانچہ تم میں سے جو یہ پائے اور پانی پینا چاہے تو اس سے، جسے وہ آگ سمجھتا ہو گا بلاشبہ وہ اسے پانی ہی پائے گا۔
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی فرماتے سنا ہے۔
سیدنا حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں اکٹھے ہوئے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں دجال اور اس کے ساتھ جو کچھ ہو گا، اس سے خوب باخبر ہوں، بیشک اس کے ساتھ پانی کا سمندر اور آگ کا دریا ہو گا، جسے تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا اور جسے تم پانی سمجھ رہے ہو گے وہ آگ ہو گی۔
چنانچہ تم میں سے جو یہ پائے اور پانی پینا چاہے تو اس سے، جسے وہ آگ سمجھتا ہو گا بلاشبہ وہ اسے پانی ہی پائے گا۔
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی فرماتے سنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4315 سے ماخوذ ہے۔